![]() |


گلشن سبحان کالونی کے بعد اب کلشن دوست محمد اور حسین سٹی میں بھی بڑے پیمانے پرسرکارکی مدد سے بجلی چوری کا انکشاف۔ مزید تفصیلات کے مطابق حسین سٹی اور گلشن دوست محمد میں بھی بڑے پیمانے پر بجلی چوری ہو رہی ہے یہ سب واپڈا کی مدد سے ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں میرا پتوکی ڈاٹ کام کے نمائندہ نے ایک نئی فوٹج بنائی ہے یہ فوٹج حسین سٹی میں واقع حسین سٹی کا دفتر ہے جس کا کوئی میٹر نہیں ہے بلکہ بغیر میٹر کے تار کمبے سے لگائی گئی ہے۔اس کے علاوہ گلشن دوست محمد میں بھی بڑے پیمانے پر بجلی چوری ہو رہی ہے ادھر بھی بغیر میٹر کے تاریں انڈرگراونڈ گھروں کو جا رہی ہیں۔ اور واپڈا والے ان سے منتھلی لیتے ہیں اور ان کا کچھ حصہ اوپر والے آفسروں کو دیتے ہیں۔ اور غریب اعوام کے بلوں میں یہ یہ اضافی یونٹ ڈال دیے جاتے ہیں۔اس سلسلے میں جب سٹی سب ڈویژن ایس۔ڈی۔او ملک سلیم الزماں سے بات کی گئی تو ان سے گلشن سبحان کالونی، گلشن دوست محمد اور حسین سٹی کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا کہ آپ پولیس والوں سے بات کریں ہم نے ایف۔آئی۔آر درج کروا کر کنکشن کاٹ دیے گئے ہیں۔ جب کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
پتوکی ایم کیو ایم سے وابستہ امیر کبیر اغوا کاروں و خطر ناک دہشت گردوں کو بچانے کے لیے گوجرانوالہ صدر پولیس نے مغوی ساجد اور اس کے گواہ سماجی کارکن شمشاد انقلابی کو من گھڑ ت مقدمہ میں پھنسانے کے لیے حوالات میں کئی روز سے بند کر رکھا ہے اور تشدد کیا جا رہا ہے چیف جسٹس ، وزیر اعلیٰ اور اعلی پولیس افسران فوری طور پر از خود نوٹس لیں ، بھوک ہڑ تالی دھرنا کے بعد ان خیالات کا اظہار انسانی حقوق کے علمبردار سماجی راہنما سلیم منور شہید چیئر مین ملی مفادات مشترکہ مشن پاکستان نے پریس کلب پتوکی میں ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ حکیم زادہ نے واقعہ کی بنیادی تفصیلات سے صحافیوں کو آگاہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے رہائشی مرغی مارکیٹ کے تاجر ساجد آرائیں کو لاہور سیشن کورٹ کے قریب سے اس وقت اغوا ئ کر لیا جب وہ لاہور سے رائو شمشاد انقلابی وائس چیئر مین ملی مفادات مشترکہ مشن پنجاب کے ہمراہ مرغی مارکیٹ جا رہا تھا۔ اغوائ کار اسے اغوائ کر کے شیخوپورہ لے گئے ۔ وہاں سے مغوی کو تیسری منزل سے نیچے پھینگ دیا اور مغوی کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں ۔ جب لوگ اکھٹے ہو گئے تو اغوائ کار ملزمان نے چور چور کا شور مچا کر واقعہ پر عوامی رد عمل سے بچنے کی کوشش کی حکیم زادہ نے کہا کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ اغوائ کاروں کی محبوبہ ایک طوائف جس کے درجنوں نام ہیں کے اشارہ پر عمل میں آیا اور بعد میں گوجرانوالا پولیس نے دونوں پارٹیوں کو طلب کر کے انصاف کے نام پر جبری مدعی سے صلح نامہ لکھوا لیا اور ملزمان کو چھوڑ دیا جس پر پولیس رویہ کے خلاف مدعی اور گواہ گوجرانوالہ کے ڈی آ ئی جی ذوالفقار احمد چیمہ کے پاس گئے ہوئے تھے کہ پولیس نے دونوں کو پکڑ کر قید کر لیا ہے اور واقعہ کا مقدمہ درج نہ کرانے پر زور دیا جا رہا ہے ۔